January 29, 2022 | 02:32 pm

پاکستان میں فاسٹ بولنگ کا بے پناہ ٹیلنٹ ہے، اسسٹنٹ کوچ ملتان سلطانز

pakistan mien fast bowling ka bae panha talent hai asstant coach multan sultan
رپورٹ: فیضان لاکھانی۔۔۔ پی ایس ایل ٹیم ملتان سلطانز کے اسسٹنٹ کوچ اور دنیا بھر میں کوچنگ کا عمدہ تجربہ رکھنے والے سابق ویسٹ انڈین کرکٹر اوٹس گبسن کا کہنا ہے کہ پاکستان میں فاسٹ بولنگ کا بے پناہ ٹیلنٹ ہے ، جس طرح یہ ملک فاسٹ بولرز کی ’’ سپلائی چین‘‘ ہے اس کو دیکھ کر کافی خوشی ہوتی ہے۔

جیو نیوز کو خصوصی انٹرویو میں اوٹس گبسن نے کہا کہ پاکستان کے ابھرتے ہوئے فاسٹ بولرز کیلئے پی ایس ایل ایک بہت زبردست پلیٹ فارم ہے جہاں وہ پرفارم کرکے دنیا بھر میں اپنا نام کماسکتے ہیں۔

اوٹس گبسن جنوبی افریقا، ویسٹ انڈیز، بنگلہ دیش اور انگلینڈ کی کوچنگ کرچکے ہیں، ان کی کوچنگ میں ویسٹ انڈیز نے دو ہزار بارہ کا ٹی ٹوینٹی ورلڈ کپ بھی جیتا تھا۔ اس سال ان ہی کی کوچنگ میں بنگلہ دیشی ٹیم نے نیوزی لینڈ کو نیوزی لینڈ میں ٹیسٹ سیریز میں شکست دی تھی اور اب وہ پاکستان سپر لیگ میں ملتان سلطانز کے اسسٹنٹ کوچ ہیں۔

باون سالہ سابق ویسٹ انڈین کرکٹر نے کہا کہ پاکستان میں فاسٹ بولر کا خزانہ دیکھ کر اچھا لگا ہے، پاکستان سے جس طرح فاسٹ بولرز آرہے ہیں اس عمل کو خود دیکھنے کیلئے یہاں آنا ایک اچھا موقع ہے۔

پاکستانی بولرز کی تعریف کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شاہین شاہ آفریدی اور حارث رؤف بہت زبردست ٹیلنٹ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس نوجوانی میں جس طرح شاہین شاہ آفریدی پرفارم کررہا ہے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ نہایت ہی دلیر بولر ہے، اسکو معلوم ہے کہ وہ کیا کررہا ہے۔ شاہین کے ساتھ ساتھ حارث روف کی بولنگ میں بھی بہت پیس ہے۔

انہوں نے کہا کہ یوں لگتا ہے کہ پاکستان میں فاسٹ بولرز کا خزانہ ہے، ثقلین مشتاق سے بات ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ کم از کم دس سے پندرہ بولرز اب بھی ایسے ہیں اس ملک میں جو تسلسل کے ساتھ ایک سو چالیس کی رفتار سے بولنگ کراسکتے ہیں اور وہ موقع کے منتظر ہیں اور ایسے تمام بولرز کیلئے پاکستان سپر لیگ ایک اچھا پلیٹ فارم ہے جہاں پر وہ پرفارم کرکے دنیا کو اپنا ٹیلنٹ بتاسکتے ہیں۔

انہوں نے ملتان سلطانز میں شامل نوجوان فاسٹ بولر شاہنواز ڈاہانی کی بھی تعریف کی اور کہا کہ داہانی کا مستقل بہت روشن ہے، اس میں کافی اینجری ہے اس کے ساتھ ساتھ ملتان سلطانز کا نوجوان بولر احسان اللہ بھی زبردست ٹیلنٹ ہے۔

نیوزی لینڈ کیخلاف بنگلہ دیشی ٹیم کی ٹیسٹ مین فتح کی یادیں تازہ کرتے ہوئے اوٹس گبسن نے کہا کہ بنگلہ دیشی بولرز کو نیوزی لینڈ میں جاکر پرفارم کرانے کی لئے دو سال کا وقت لگا اس دو سال کے دوران صلاحیتوں پر کام کرنے کے ساتھ ساتھ ان کےا عتمد میں بھی اضافہ کیا گیا کیوں کہ بنگلہ دیش میں فاسٹ بولنگ کا معیار پاکستان جیسا نہیں، پاکستان کی فاسٹ بولنگ میں زبردست تاریخ ہے لیکن بنگلہ دیش میں خود اعتمادی کا فقدان تھا، بولرز کو یہ اعتمد دیا گیا کہ وہ نیوزی لینڈ جاکر پرفارم کرسکتے ہیں۔

ایک سوال پر سابق ویسٹ انڈین کرکٹر نے کہا کہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ٹی ٹوئنٹی کرکٹ بیٹرز کا گیم ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ بورز کے پاس بھی موقع ہے کہ وہ اپنی صلاحیتیں بہتر کریں۔

انہوں نے کہا کہ جہاں بیٹرز نت نئے شاٹس متعارف کررہے ہیں وہیں بولرز بھی اب یہ سوچ رہے ہیں کہ خود کو متاثر کن بنانے کیلئے مزید کیا کرسکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وہ ہر بولنگ گروپ کو یہی کہتے ہیں کہ ٹی ٹوئنٹی میں شاٹس لگ جانا کوئی بڑی بات نہیں، یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ہر گیند ایک الگ ایونٹ ہے، آپ ایک گیند پر چھکا کھانے کے بعد اگلی گیند پر بھی کم بیک کرسکتے ہیں۔ ضروری ہے آپ جو پلان کریں اس پر عمل ضرور کریں۔

اوٹس گبسن نے کہا کہ ڈاٹ بالز اہم ضرور ہیں لیکن اگر اننگز کے آغاز میں حریف کی وکٹیں حاصل کرلیں تو اس سے حریف کے رنز بنانے کی رفتار کم ہوسکتی ہے۔ ورلڈ کپ وننگ کوچ نے کہا کہ اگر آپ ایک اچھا یارکر کرائیں اور اس پر چوکا لگ جائے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ گیند خراب ہوا تھا، آپ دوبارہ بھی وہی گیند کراسکتے ہیں۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ مستقبل میں پاکستان کی کوچنگ میں دلچسپی رکھتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ وہ کوچنگ کے کام سے محبت کرتے ہیں اگر مستقبل میں پاکستان کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا تو اس موقع کو خوش آمدید کہیں گے۔