سابق کپتان راشد لطیف کا نیشنل کرکٹ اکیڈمی کے ہائی پرفارمنس سینٹر کا دورہ
لاہور: پاکستان کرکٹ بورڈ کی دعوت پر سابق کرکٹرز کے نیشنل کرکٹ اکیڈمی کے دوروں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان راشد لطیف نے نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں قائم ہائی پرفارمنس سینٹر کا دورہ کیا جہاں ڈائریکٹر ہائی پرفارمنس عاقب جاوید نے انہیں مختلف شعبوں اور جاری سرگرمیوں کے حوالے سے بریفنگ دی۔
سابق کپتان راشد لطیف نے ہائی پرفارمنس سینٹر کے مختلف شعبوں کا دورہ کیا اور وہاں موجود ٹریننگ سہولیات کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر عاقب جاوید نے بتایا کہ سابق کرکٹرز کو ہائی پرفارمنس سینٹر مدعو کرنے کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے اور سب سے پہلے سابق کپتان راشد لطیف کو مدعو کیا گیا ہے۔
عاقب جاوید کے مطابق ہر ہفتے ایک سابق کرکٹر کو ہائی پرفارمنس سینٹر بلایا جائے گا۔ اس اقدام کا مقصد سابق کرکٹرز کو اکیڈمیز میں ہونے والے کام، طریقہ کار اور کھلاڑیوں کو فراہم کی جانے والی ٹریننگ سہولیات سے آگاہ کرنا ہے۔ سابق کرکٹرز سے فیڈ بیک بھی لیا جائے گا تاکہ ان کے تجربے اور مشوروں کی روشنی میں کام کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔
ڈائریکٹر ہائی پرفارمنس نے کہا کہ سابق کرکٹرز کی مشاورت سے کھلاڑیوں کو مزید بہتر انداز میں گروم کرنے اور ان کی تربیت کے نظام کو مؤثر بنانے میں بھی مدد ملے گی۔
اس موقع پر راشد لطیف نے کہا کہ عاقب جاوید اور وہ طویل عرصے تک ایک ساتھ کرکٹ کھیلتے رہے ہیں۔ عاقب جاوید کی دعوت پر وہ ہائی پرفارمنس سینٹر میں جاری کام کا جائزہ لینے آئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل کرکٹ اکیڈمی ان کے سامنے بنی ہے اور وہ یہاں ٹریننگ بھی کرتے رہے ہیں۔
راشد لطیف نے ایل سی سی اے گراؤنڈ سے وابستہ اپنی یادیں بھی تازہ کرتے ہوئے کہا کہ گراؤنڈ میں اب بہتری لائی گئی ہے۔ اسکوائر پر پچز کی تعداد میں اضافہ کیا گیا ہے جبکہ سینٹر پچ پر بھی کھیلنے کی سہولت موجود ہے۔ ان کے مطابق ان اقدامات سے پاکستان کرکٹ میں مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔
سابق کپتان نے بائیومکینکس لیب کو ہائی پرفارمنس سینٹر کی اہم سہولیات میں سے ایک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ابھی اس کی تکمیل ہونا باقی ہے تاہم مکمل ہونے کے بعد اس سے کوچز اور کھلاڑیوں کو بہت فائدہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ جدید کرکٹ میں بائیومکینکس لیب کا ہونا انتہائی ضروری ہے اور اس کے بغیر آگے بڑھنا مشکل ہے۔
راشد لطیف نے جدید بولنگ مشین کا جائزہ لیتے ہوئے بھی خوشی کا اظہار کیا اور کہا کہ اس جدید سہولت سے بیٹرز کی کارکردگی میں بہتری لانے میں مدد ملے گی۔
سابق کپتان نے پاکستان میں کلب کرکٹ کی بحالی پر بھی زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسکول کرکٹ شروع ہو چکی ہے، تاہم کلب کرکٹ کا ہونا بھی انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ کلب کرکٹ کو جلد بحال کیا جائے کیونکہ پاکستان کرکٹ کو مزید بلندیوں تک لے جانے کے لیے کلب کرکٹ ایک بڑا ذریعہ ثابت ہوسکتی ہے۔
-
افغانستان، بنگلا دیش اور زمبابوے کے درمیان سہ ملکی سیریز آج سے شروع ہوگی
-
مصباح الحق نیپال پریمئیر لیگ سے منسلک ہوگئے
-
ٹیم میں کئی پلانز پر بات ہوئی ہے، سب کو نہیں بتا سکتے: فخر زمان
-
پاکستانی باکسر خلیق امتیاز انٹرنیشنل فائٹ جیتنے کے باوجود مالی مشکلات کا شکار
-
حسن نواز آئی ایل ٹی 20 کے پانچویں سیزن کیلئے ڈیزرٹ وائپرز میں شامل
-
ویسٹ انڈیز کیخلاف فیصلہ کن ٹی ٹوئنٹی سے قبل ارشدیپ سنگھ باہر، متبادل کھلاڑی کا نام سامنے آگیا
-
انگلش اسپنر میسن کرین کی 8 سال بعد واپسی، پاکستان میں تین ملکی سیریز کیلئے پُرجوش
-
تین ملکی سیریز کیلئے انگلش کرکٹ ٹیم پاکستان پہنچ گئی
-
محمد یوسف کی نوجوان بیٹرز کیلئے غیر ملکی بیٹنگ کوچ مقرر کرنے کی تجویز
-
دورہ بھارت کے دوران شائے ہوپ ایوارڈز کے وزن سے پریشان
-
سری لنکا کیخلاف ٹیسٹ سیریز میں مائیک ہیسن کو ذمےداریاں سونپے جانے کا امکان
-
لاہور قلندرز ہائی پرفارمنس سینٹر سے زمبابوین کرکٹرز ٹریننگ کے بعد وطن روانہ