September 09, 2026 | 10:42 am

پاکستان ہاکی ٹیم کے سابق کپتان محمد ثقلین کی جذباتی داستان

رپورٹ: سہیل عمران۔۔۔ پاکستان ہاکی ٹیم کے سابق کپتان اور مضبوط دفاعی کھلاڑی محمد ثقلین نے کھیل کے میدان میں تو کئی مرتبہ حریفوں کے حملوں کا دفاع کیا لیکن زندگی نے جب انہیں کینسر جیسے خطرناک مرض کا سامنا کرایا تو انہوں نے اس جنگ کا مقابلہ بھی اسی حوصلے اور مضبوط اعصاب سے کیا جس کے لیے وہ میدان میں پہچانے جاتے تھے۔

محمد ثقلین نے جیو نیوز سے گفتگو میں انکشاف کیا کہ انہیں تقریباً آٹھ ماہ قبل اورل کینسر کی تشخیص ہوئی تھی اور اس وقت بیماری اسٹیج فور بی تک پہنچ چکی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ مجھے اسٹیج فور بی کا کینسر تھا، میری 18 گھنٹے سرجری ہوئی جو  میرے لیے ایک بہت مشکل مرحلہ تھا۔

کینسر جیسی خطرناک بیماری کے باوجود محمد ثقلین نے اپنی تکلیف کو عام نہیں کیا اور خاموشی سے علاج کے مراحل سے گزرتے رہے۔ ان کا کہنا ہے کہ زندگی میں پہلے ہی بہت سی پریشانیاں موجود ہیں، اس لیے انہوں نے کسی کو بتا کر دوسروں کی پریشانی میں اضافہ نہیں کیا۔

طویل اور مشکل علاج کے بعد اب محمد ثقلین کی امیونوتھراپی جاری ہے اور وہ بتاتے ہیں کہ وہ دوبارہ معمول کی زندگی کی طرف واپس آ چکے ہیں۔

محمد ثقلین کے لیے ہاکی صرف ایک کھیل نہیں بلکہ زندگی کا ایک ایسا سبق بھی ہے جس نے انہیں مشکل حالات میں مضبوط رہنا سکھایا۔

وہ کہتے ہیں کہ جس طرح میدان میں حریف کے ہر حملے کا مقابلہ کیا، اسی طرح کینسر کے خلاف بھی ڈٹ کر کھڑے رہے۔کھیل نے مجھے مضبوط بنایا، میں نے کھیل کے میدان کی طرح کینسر کا بھی مقابلہ کیا۔

کینسر کی تکلیف اور پھر اس سے نکلنے پر بات کرتے ہو ئے محمد ثقلین جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور آبدیدہ ہوتے ہوئے کہا کہ سیمی فائنل اور فائنل میں پاکستان کی شکست کی تکلیف اس تکلیف سے زیادہ ہوتی۔

کینسر جیسے موذی مرض سے لڑ کر دوبارہ زندگی کی طرف آنے والے محمد ثقلین کا پیغام صرف کینسر کے مریضوں کے لیے نہیں بلکہ ہر اس شخص کے لیے ہے جو زندگی میں کسی مشکل کا سامنا کر رہا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ مشکلات زندگی کا حصہ ہیں لیکن انسان کو ان کے سامنے ہمت نہیں ہارنی چاہیے۔میرا پیغام یہی ہے کہ تکلیف زندگی میں آنی ہے مگر اس کا ڈٹ کر مقابلہ کریں اور کمزور نہ پڑیں، مضبوط ہوں، ورنہ آپ زندگی جی نہیں سکیں گے۔