September 01, 2026 | 03:38 pm

پاکستان کرکٹ بورڈ کے حالیہ فیصلوں پر سابق کرکٹرز کی کڑی تنقید

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے حالیہ فیصلوں پر سابق کرکٹرز نے کڑی تنقید کی ہے۔

سابق کپتان شاہد آفریدی کا کہنا ہے کہ جو متبادل لائے گئے ہیں ان کی بھی سمجھ نہیں آئی، ٹی ٹوئنٹی پلیئرز کو انگلینڈ میں ٹیسٹ میچ کےلیے شامل کر لیا گیا۔

شاہد آفریدی نے کہا کہ یہ سلیکشن کمیٹی کا حیران کن ترین فیصلہ ہے، پانچ ٹیسٹ میچز کے بعد کوچ کو کیوں فارغ کر دیا گیا ؟

قومی ٹیم کے سابق ہیڈ کوچ مکی آرتھر نے پی سی بی کےفیصلے کوانتہائی مضحکہ خیزقرار دیا اور کہا کہ کھلاڑیوں،کوچزاورسلیکٹرزمیں تبدیلیاں ہوتی رہتی ہیں،کوئی استحکام نہیں۔

مکی آرتھر نے کہا کہ پی سی بی تسلسل کے ساتھ تبدیلیاں کرتا رہتا ہے، پلاننگ ، استحکام اوراسٹرکچر سے کارکردگی میں تسلسل آئے گا۔

سابق کپتان شعیب ملک کہتے ہیں کہ احتساب کا عمل دورہ مکمل ہونے کے بعد ہونا چاہیے، بینچ پر بیٹھنے والے یا صرف دو تین ٹیسٹ کھیلنے والے کھلاڑیوں کا احتساب نہیں ہونا چاہیے۔

انگلینڈ کے سابق کپتان کیون پیٹرسن نے پاکستان ٹیم میں ہونے والی تبدیلیوں پر حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی تبدیلیوں کے بارے میں پڑھا، کیا واقعی ایسا ہو سکتا ہے، کھلاڑیوں کو واپس بھیجنے سمیت اتنی تبدیلیاں، واقعی یہ سب ہوا ہے؟

واضح رہے کہ انگلینڈ کے خلاف ابتدائی دو ٹیسٹ میچز میں پاکستان ٹیم کو بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا جس کے بعد پی سی بی نے 7 کھلاڑیوں اور کوچز کو ریلیز کر دیا۔

پی سی بی کی جانب سے ریلیز کئے جانے والے کھلاڑیوں میں محمد رضوان، امام الحق، سلمان علی آغا، عامر جمال، علی عثمان، اویس ظفر اور خرم شہزاد شامل ہیں جبکہ ہیڈ کوچ سرفراز احمد اور بولنگ کوچ عمر گل کو بھی ریلیز کر دیا گیا ہے۔