June 29, 2026 | 10:29 am

20 فیصد جیتنے والی ٹیم سے آئی سی سی ایونٹس جیتنے کی توقع نہیں رکھی جا سکتی: مائیک ہیسن

مائیک ہیسن نمائندہ جیو نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے۔

رپورٹ: سہیل عمران۔۔۔ ہیڈ کوچ وائٹ بال کرکٹ ٹیم مائیک ہیسن کا کہنا ہے کہ 20 فیصد جیتنے والی ٹیم سے آئی سی سی ایونٹس جیتنے کی توقع نہیں رکھی جا سکتی۔

جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے مائیک ہیسن نے کہا کہ ہمیں کارکردگی اور جیت میں تسلسل لانے کا آغاز کرنا تھا جو کہ ہم نے کیا ہم اب ماضی کے مقابلے میں زیادہ سیریز جیت رہے ہیں ہم اب بیس فیصد سے 70 فیصد تک پہنچے ہیں جب 20 فیصد کامیابی کی شرح ہو تو ایسے میں آئی سی سی ایونٹس نہیں جیتے جا سکتے۔

انہوں نے کہا کہ 2023، 24 اور 25 میں ہم آئی سی سی ایونٹس میں پہلے راؤنڈ سے آگے نہیں گئے 2026 میں ہم سپر ایٹ مرحلے میں گئے ہم ایک میچ انگلینڈ سے ہارے ایک میچ ہمارا بارش کی نذر ہوا آئی سی سی ایونٹس میں آپ کو فائٹ کرتے رہنا اور مقابلے میں رہنا ہوگا ایشیا کپ میں ہمیں چوتھے پانچویں نمبر کی ٹیم کہا گیا لیکن ہم فائنل کھیلے۔

مائیک ہیسن نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ پہلے ہم نہ ہوم سیریز جیت رہے تھے اور نہ اوے سیریز جیت رہے تھے 20فیصد میچز جیتنے والی ٹیم اگر ملے تو یہ ایک چیلنج ہوتا ہے۔

مائیک ہیسن کا ماننا ہے کہ ہم جہاں پہلے تھے اور جہاں اب ہیں میں سمجھتا ہوں کہ بہت بہتری آئی ہے میں سمجھتا ہوں کہ ابھی بھی بہتری کی ضرورت ہے اور بہتری آئے گی ہمیں باقاعدگی سے جیتنا ہے 23 فیصد جیت کی شرح سے ورلڈ ٹائٹل نہیں جیت سکتے ابھی آئی سی سی ایونٹ کے لئے ہمارے پاس وقت ہے ہم کئی شعبوں میں بہتر ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تمام فارمیٹ کے لئے ایک سینٹرل کنٹریکٹ کا طریقہ کار ختم ہو چکا ہے، اب تمام ٹیمیں موجودہ صورتحال کو سامنے رکھ کر کنٹریکٹس تیار کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔

مائیک ہیسن نے اپنی گفتگو میں کہا کہ ٹی ٹوئنٹی کے کرکٹرز فرنچائز کرکٹ میں اپنا مستقبل اور اسکلز کو بہتر بنانے کی کوشش کرتے ہیں اگر انہیں فرسٹ کلاس کھیلنے کا کہا جائے گا تو وہ اپنے فارمیٹ میں اسپیشلائزڈ نہیں ہو سکیں گےاگر آپ نے خود کو ٹیسٹ کا ماہر ثابت کرنا ہے تو پھر آپ کو تینوں فارمیٹ کھیلنے کی بجائے فرسٹ کلاس کھیلنا ہے اس لیے اب پی سی بی ایسا کنٹریکٹ بنا رہا ہے تاکہ کرکٹر اسپیشلائزڈ ہو کر پرفارمنس کو بہتر کریں۔

ایشین گیمز کے لیے نوجوان کھلاڑیوں کے انتخاب کے بارے میں مائیک ہیسن نے کہا کہ ایشین گیمز کے لیے جو کرکٹرز شامل نہیں وہ ابھی مقابلے میں رہیں گے پی ایس ایل کا انعقاد ہونا ہے جو ایشین گیمز کے لئے نہیں ہیں وہ اپنے کیس کو مضبوط کر سکتے ہیں ون ڈے ورلڈ کپ کے لئے ہمارے پاس 15 ماہ کا وقت ہے۔

اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے مائیک ہیسن نے کہا کہ ہمیں اپنا پول بڑھانا ہے اور مزید چھ ماہ نوجوانوں کو آزمانا ہے تاکہ ہم ورلڈ کپ کے لیے اپنا انتخاب درست رکھ سکیں۔

ہیڈ کوچ نے کہا کہ ہمارے پاس ابھی مواقع آئیں گے، میں سمجھتا ہوں کہ ون ڈے ٹیم بہتر ہو رہی ہے ہم نے ایشین گیمز میں نوجوان کھلاڑیوں کو ایکسپوژر دینا ہے اس لئے اس کمبی نیشن کا انتخاب کیا ہے، یہ ایک متوازن فیصلہ ہے ایسی ٹیم کا انتخاب کیا ہے جس کے کھلاڑی ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ کے بہتر ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم ان کھلاڑیوں کو ایکسپوژر دے کر خود کو موقع دے رہے ہیں کہ ایسے پلیئرز دیکھ سکیں جنہیں ہم چاہتے ہیں کچھ کھلاڑی اسکواڈ میں رہے ہیں لیکن موقع نہیں ملتا رہا اب انہیں موقع ملے گا۔

بھارت کی ٹیم کے ایشین گیمز میں مضبوط ہونے پر انہوں نے کہا کہ صرف بھارت نہیں ہے کئی دوسری اچھی ٹیمیں بھی ہیں افغانستان ٹی ٹوئنٹی میں ہمیشہ خطرہ ہے سری لنکا بہتر ہو رہی ہے، بنگلا دیش کی ٹیم اسپن کنڈیشنز میں چیلنجنگ ہوتی ہے ہم ایشین گیمز میں صرف ایک ٹیم کے بارے میں نہیں سوچ سکتے، ایشین گیمز میں کئی ٹیمیں ہیں جو چیلنج بن سکتی ہیں مگر میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے پاس اچھا توازن ہے۔