May 21, 2024 | 09:22 am

پاکستان میں سہولیات نہیں، امریکہ میں ٹریننگ کرنا چاہتا ہوں: شجر عباس

رپورٹ: سہیل عمران۔۔۔ قومی چیمپئین اسپرنٹر شجر عباس کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ٹریننگ کی سہولیات نہیں ہیں ، ٹریننگ کے لیے ارشد ندیم کو بھی ساؤتھ افریقہ جانا پڑا کیونکہ وہاں جیولین کے لیے اچھی سہولیات ہیں، میں بھی امریکہ کے اسپرنٹرز سے ٹریننگ لینے کا خواہشمند ہوں ، وہ دنیا بھر میں شہرت رکھتے ہیں اگر میں وہاں ٹریننگ کرتا ہوں تو پھر میری پرفارمنس مزید بہتر ہو سکتی ہے ۔

شجر عباس نے پنجاب اسٹیڈیم لاہور میں ٹریننگ سیشن کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایتھلیٹس جس ملک میں مقابلہ ہو اس کے موسم کے مطابق ٹریننگ کرتے ہیں ، سردی ہو یا گرمی ہمیں یہاں رہ کر ہی خود کو ایڈجسٹ کرنا پڑتا ہے۔

شجر عباس نے کم ایونٹس ہونے کا شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ ایک نیشنل چیمپئین شپ ہوتی ہے ، اس کی تاریخ کا علم نہیں ہوتا اور جب نیشنل چیمپئین شپ اچھی نہ رہے تو سننے کو ملتا ہے کہ اس کا برا وقت شروع ہو گیا ہے ، مقابلے ملیں گے تو ایتھلیٹ کی کارکردگی میں نکھار آئے گا ، مقابلے زیادہ دیں ۔

انہوں نے بتایا کہ روس اور قازقستان میں ہونے والے اولمپک کوالیفائی راؤنڈ کی بھرپور تیاری کر رہا ہوں ، دو سیشنز میں ٹریننگ جاری ہے،کیمپ لگے ابھی صرف دو ہفتے ہو ئے ہیں مگر اس سے پہلے میں اپنے طور پر لاہور میں ٹریننگ کر رہا تھا اور اس کے لیے میں نے اپنی رہائش لی ہو ئی تھی۔

اسپرنٹر شجر عباس کا کہنا ہے کہ وہ وائلڈ کارڈ پر نہیں کوالیفائی کر کے اولمپکس میں پاکستان کی نمائندگی کرنا چاہتے ہیں ۔

شجر عباس نے کہا کہ پیرس اولمپکس میں کوالیفائی کر کے پاکستان کی نمائندگی کا خواہش مند ہوں میں وائلڈ کارڈ پر نہیں کوالیفائی کر کے اچھا پرفارم کرنا چاہتا ہوں ، ارشد ندیم براہ راست کوالیفائی کر چکے ہیں ، اب کسی ایتھلیٹ کو وائلڈ کارڈ نہیں مل سکتا ، اس مرتبہ کوالیفائی نہ کر سکا تو 2028 کے اولمپکس کے لیے مزید ٹریننگ کروں گا ، اولمپکس میں کوالیفائی کر کے جانا میرا ہدف ہے۔