March 29, 2023 | 10:12 am

عاقب جاوید کی افغانستان کیخلاف منتخب کھلاڑیوں کی فٹنس پر کڑی تنقید

aqib javed ki afghanistan kay khilaf muntakhib khilariyo ki fitness par kari tanqeed
رپورٹ: سہیل عمران۔۔۔ سابق فاسٹ بولر عاقب جاوید نے افغانستان کے خلاف سیریز کے لیے منتخب ہونے والے کھلاڑیوں کی فٹنس کے معیار پر کڑی تنقید کردی۔

عاقب جاوید نے لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہو ئے کسی کھلاڑی کا نام لیے بغیر کہا کہ مجھے نہیں علم کہ افغانستان کے خلاف کیا تجربہ کیا گیا ہے ، سلیکشن کے لیے کوئی تو معیار برقرار رکھیں ، کچھ تو پیرا میٹرز ہونے چاہیئں ، کچھ تو فٹنس کا لیول ہو ، کوئی مہارت ہو تو پھر آپ پاکستان کی نمائندگی کریں ۔ اب تو شریف سے کھلاڑی آ گئے ہیں اگر میرے جیسا کھلاڑی ہوتا تو کھیلنے سے انکار کر دیتا ، پہلے کوئی فٹنس تو ثابت کرے،فٹنس کے معیار اور پروٹوکول سے تو ہو کر آئیں۔

عاقب جاوید نے فاسٹ احسان اللہ کی تعریف کرتے ہو ئے کہا کہ احسان اللہ نے بہت سیکھا ہے اور پہلے سے بہت بہتری آئی ہے ، احسان اللہ ہما را پرانا پی ڈی پی کھیلا ہوا ہے ۔پچھلے سال بھی احسان اللہ ٹرائیلز پر آیا تھا اس کی اسپیڈ اچھی تھی اور اس کو مشورہ دیا تھا کہ اپنی ٹانگیں تگڑی کروگے تو اس سے بہت فائدہ ہو گا رن اپ کا مومنٹم بناو گے تو مزید اسپیڈ اچھی ہو گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ مجھے پی ایس ایل میں اس اسپیڈ کے ساتھ بولنگ کرتے ہو ئے دیکھ کر خوشی ہو ئی ہے احسان اللہ مستقبل کے لیے ایک اچھا کھلاڑی ثابت ہو گا ۔ اسے تھوڑی اور مہارت سیکھنا ہو گی ۔ حارث روف نے جیسے سیکھا ،وہ پہلے یارکر اور باؤنسرز ہی کرتا تھا لیکن پھر اس نے سلو بال کرنا سیکھا اسی طرح احسان اللہ کو اپنی اسپیڈ کے ساتھ ساتھ مہارت بھی حاصل کرنا ہو گی ۔

عاقب جاوید نے کہا کہ نیوزی لینڈ کے خلاف سیریز میں اپنی مکمل ٹیم کھلائیں ، مزید ینگسٹرز کو کھلا کر کرنا کیا ہے ، انہیں اے ٹیم کے ساتھ کہیں دوروں پر بھیجیں ۔

پاکستان کرکٹ ٹیم کے کوچ بننے کے سوال پر عاقب جاوید نے فوری نہ بول دیا انہوں نے کہا کہ وہ ہر گز پاکستان ٹیم کا کوچ نہیں بنیں گے ، انسان ہو یا کرکٹر اس کو وقت کے ساتھ ساتھ بہتری کی جانب بڑھنا چاہیے ، میں اسی لیے تنقید کرتا ہوں کہ آگے کی طرف ہمیں جانا ہے ۔ پھر مجھے بولنگ کوچ نہیں بن جانا یا پھر فیلڈنگ کوچ نہیں بن جانا ۔اسسٹنٹ کوچ نہیں بن جانا ، میری کوچنگ میں دلچسپی ہی نہیں ہے بن کر کیا کرنا ہے۔

عاقب جاوید کا ماننا ہے کہ ایشیا کپ کے بھارت کے لیے کہیں بھی میچز ہوں اس کا پاکستان کو فائدہ ہے ۔ کوئی نقصان نہیں ہو گا ، اگربھارت کہہ دیتا ہے کہ ہم نے نہ آنا ہے اور نہ اپ کو بلانا ہے تو پھر نقصان پاکستان کا ہی ہے اور سب کو علم ہے کہ کرکٹ میں سارا پیسہ کہاں سے آتا ہے ۔